سوتیلی ماں کی جوان پھدی ماری - Urdu sex stories

 

سوتیلی ماں کی جوان پھدی ماری - Urdu sex stories

سوتیلی ماں کی جوان پھدی ماری - Urdu sex stories

مجھے دوستوں آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے جب رات کو کئی بار میرا ابا امی کو مارنا شروع کر دیتا تھا بات کو اپنے آپ کو ننگا کرنے والی ہے لیکن کیا کروں ہماری سوسائٹی  میں طرح طرح کے واقعات جنم لیتے رہتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی سہی

شروع شروع مٰں مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ ابا امی کو رات کے وقت کیوں تنگ کرتا ہے ابا امی کو معمولی مارتا تھا بس ایک دو تھپڑ ہلکے والے اور امی ڈر جاتی تھی اور پھر اس کے بعد کوئی پندرہ منٹ بعد امی دوبارہ بیڈ روم کی لائیٹ جلا لیتی تھی اور پھر آدھا گھنٹی لائیٹ جلنے کے بعد ابا اٹھتا لائیٹ بند کرتا فریج کا دروازہ کھلنے کی ؤواز آتی اور روشنی ہوتی میں سویا جاگا ہوا کرتا تھا چوری چوری دیکھتا تھا

چادر سے منہ باہر نکلاے ایک رات میں یونہی سونے کی کوشش کر رہا تھا کہ امی ابا کی بیڈ روم سے ؤواز آئی  اس دن نا جانے کیا ہوا میں اٹھ کھڑا ہوااور چوری سے ونڈو کے ساتھ کان لگا دیئے ابا بولے بے وقوف جاہل عورت لائیٹ جلا کے بھی سیکس کیا جاتا ہے امی بولی نہیں مجھے شرم آتی ہے آپ مجھے بے ہودہ پوز بنانے کا کہتے ہو

ابا کو اس بات پہ اور غصہ آیااور بولا تو کیا پرائی کو دیکھا کروں نا جانے تو کب سمجھ دار ہو گی شوہر کو خوش کیا کر امی بولی کرتی ہوں لیکن جس طرح آ اوٹ پٹانگ پوز بنانے کا کہتے ہو مجھ سے نہیں ہوتا اوپر سے لائیٹ آن کر دیتے ہو اب مٰں سمجھ گیا معاملہ کیا تھا ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ امی کینسر کی بیماری میں  انتقال کر گئی

ابا نے مجھے بہت سنبھالا اع ایک سال بعد دوسری شادی کر لی میں نے برا نا منایا اب مٰں برا ہو گیا تھااور جانتا تھا مرد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ابا نے ایک غلطی کر دی وہ گرم چالو ٹائپ کی عارت کو میری سوتیلی ماں بنا کے گھر لے آئے جس کے انداز بالکل میری ماں والے نہٰں تھے وہ رات کو کئی بات اٹھتی فریج کھولتی دودھ ڈکار کرتی

اور بیڈ روم کی لائیٹ را رات بھر آن رہتی اور اب ابا سے صبح جلدی اٹھا نہٰں جاتا تھا جبکہ وہ عورت بڑے ممے کے ساتھ یون سینہ تان کے اٹھ جاتی تھی  ایک بات تو مٰں بھول ہی گیا ہوں میں اہنا تعارف کرنا تو میرا نام صابر ہے میں کراچی میں رہتا ہوں۔

میری ماں کے انتقال کے بعد میرے والد نے دوسری شادی کرلی تھی تو دوستوں اس وقت  میری عمر چوبیس سال تھی اور میری دوسری ماں کی عمر ستائیس  سال تی جبکہ میرے والد کی عمر پچاس سال تھی۔ ہم ایک امیر گھرانے کے لوگ تھے۔

میں اپنے کمرے میں سوتا تھا اور دن کو یونیورسٹٰی سے گھر واپس آکر کام کرتا تھا۔ میری دوسری ماں ایک دم چکنی جوان خوبصورت مست سکسی فیگر اور ٹائٹ کپڑے پہننے والی خاتون تھی اور اسکی چال تو جیسے میرا لنڈ بھی کھڑا ہو جاتا تھا۔ پھر کچھ مہینے بعد وہ ایک رات کو آٹھ نو بجے بجے جب ابو حیدرآباد گئے ہوئے تھے

میرے پاس آئی اور میری گود میں لیٹ کر میرے چہرے کو اپنے مموں پر دباتی ہوئی کہنے لگی کہ اسکی پیاس نہیں بجھی ہے جوانی کی اس بوڑھے آدمی سے میں اسکے ساتھ سکس کرکے اسکو مزہ دو پاکستانی جوانی کا۔ میرا نڈ تو اسکے مموں پر سر پڑنے سے ہی تن گیا تھا۔

میں نے اسکو کھینچ کر اوپر لٹایا اور اسکی جوانی کی چھاتی کو چاٹنے اور ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ اف ف ف اس کو ایک دم ٹائیٹ بڑا جوان لن چاہیئے تھا جو ا سکی ساری گرمی مٹا سکے اور میرا لن اس وقت موزوں تھا مجھے اس کو چود کے سکون ملنے والا تھا میری چدائی میں پیار کم نفرت زیادہ تھی

پھر میں نے اسکی کمیز اتاری اور اسکی برا ہٹا کر اسکے چکنے جوان بڑے مموں کو دبا دبا کر چوسنا شروع کردیا۔۔ اسکی سسکیاں نلکنے لگیں تھین اور میں نے پھر اپنے پورے کپڑے اتار کر اسکی جوانی کو پرزور چاٹا اور سہلا کر اسکی شلوار اتاری اب وہ میرے سامنے فل ننگھی تھی

اور میں اس سے لپٹ کر اسکی ٹانگوں کو کھول کر اسکی چوت کو اپنے لنڈ سے رگڑ رہا تھا اور اسکی سکسی آوازوں سے  گھر گونج رہا تھا۔ میں نے پھر اسکے مموں کو لنڈ سے چودا اور پھر اسکو اپنا لوڑا چسوے لگا۔ وہ ٹھرکیوں کی طرح بھوکی ننگھی میرے لنڈ کو چوس رہی تھی۔ میں نے اسکے پورے جسم کو مسل کر اور چاٹ کر مست گرم کیا اور اسکو بری طرح سے سکس چڑھا ہوا تھا۔ پھر میں نے اسکے ہاتھوں کو پکڑ کر اوپر کیا اور اسکی ٹانگوں کو اپنی ٹانگوں سے کھول کر لنڈ کو اسکی پھدی پر نشانہ لگایا۔

ایک زور دار جھٹکا مارا اور پورا لنڈ اسکی چوت میں گھس گیا۔ اسکی چیخیں نکل گئیں۔ میں نے کوئی لحاظ نہ کیا اور زور دار اسکی چوت میں لنڈ ڈالتا نکالتا رہا۔ اسکا جسم اور ممے فل تیز تیز ہل رہے تھے اور اسکی سکسی آوازوں سے میں اور مست ہو کر اسپیڈ سے اسکو چود رہا تھا۔ پانچ  منٹ میں وہ فارغ ہوگئی  ہوتی کیوں نا میرا لن ہتھوڑا نما لن تھا جو اس کی کریم نکال کے چٹ کر گیا تھا

اور میں نے اسکی چدائی مارنا جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اسکی سانسیں پھول گئیں اور پھر میں نے اسکو گھوڑی بنا کر اسکے بالوں کو پکڑ کر اسکی پیچھے سے کنجروں والی چدائی ماری ۔ اسکو درد کے ساتھ زبردست مزہ اور اسکے مموں کو دوسرے ہاتھوں سے پیچھے کی طرف کھینچ کر اور مزہ لے رہا تھا۔

بیس پچیس  منٹ کی چدائی کے بعد میں اسکی گانڈ کے اوپر لنڈ رکھ کر فارغ ہوا اور پھر اسنے مجھ سے لپٹ کر کہا کہ میں تیری ماں نہیں ہوں تو مجھے اب ایسے ہی کرے گا۔ اسکے بعد وہ میری اور ابو کی پاکستانی رنڈی بن گئی تھیجبکہ اصل میں میری رنڈی تھی

Post a Comment

0 Comments